2026 میں انٹرنیٹ اور سائبر سیکیورٹی کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ آج کل مصنوعی ذہانت (AI) صرف کاروبار اور تعلیم تک محدود نہیں رہی بلکہ ہیکرز بھی جدید سائبر حملوں کے لیے اے آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ مختلف عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ AI-powered hacking اب ایک بڑا عالمی خطرہ بن چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہیکرز اب اے آئی ٹولز کی مدد سے سافٹ ویئر کی کمزوریاں بہت تیزی سے تلاش کر لیتے ہیں۔ پہلے جن کاموں میں کئی دن یا ہفتے لگ جاتے تھے، اب وہ چند منٹوں میں مکمل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر جعلی ای میلز، فیک ویب سائٹس اور آن لائن فراڈ پہلے سے زیادہ خطرناک اور حقیقت کے قریب نظر آنے لگے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ریسرچرز نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ جدید اے آئی ماڈلز خودکار طریقے سے سسٹمز کی خامیوں کو تلاش کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے نئے AI ماڈلز کو عوامی طور پر جاری کرنے سے پہلے اضافی سیکیورٹی ٹیسٹنگ کر رہی ہیں تاکہ ان کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
دوسری جانب دنیا بھر میں انٹرنیٹ سروس میں تعطل اور نیٹ ورک فیل ہونے کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملے، پاور گرڈ مسائل اور کلاؤڈ سرور فیل ہونے کی وجہ سے کئی ممالک میں انٹرنیٹ متاثر ہوا۔ اس صورتحال نے آن لائن کاروبار، بینکنگ اور کمیونیکیشن سسٹمز کو بھی متاثر کیا۔
ایک نئی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کیبلز پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق جدید اے آئی ٹیکنالوجی فائبر کیبلز کے ذریعے اردگرد کی آوازوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا گیا تو ہیکرز حساس معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی سائبر خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، لیکن یہی ٹیکنالوجی مستقبل میں بہتر سیکیورٹی بھی فراہم کرے گی۔ کئی کمپنیاں ایسے AI-based security systems تیار کر رہی ہیں جو خطرناک حملوں کو فوری طور پر شناخت کر کے روک سکیں گے۔
ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آن لائن سیکیورٹی پر خصوصی توجہ دیں۔ مضبوط پاس ورڈز، Two-Factor Authentication اور اپڈیٹڈ سافٹ ویئر کا استعمال سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے بہت اہم ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کا انٹرنیٹ زیادہ اسمارٹ ہوگا، لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی پہلے سے زیادہ جدید ہوں گے۔